Make a blog

saghri

1 year ago

★▶◀piyar♕♕

★▶◀piyar♕♕
غزل محبت کی سنانے میں دیر لگتی ہے کنول وفا کا کھلانے میں دیر لگتی ہے وفا کا دیپک جلانے میں دیر لگتی ہے کبھی کسی کا ہو جانے میں دیر لگتی ہے غبار دل کا مٹانے میں دیر لگتی ہے خطا کسی کی بھلانے میں دیر لگتی ہے وفا زمانے میں نایاب ہے گنوانا مت فلک سے چاند کو لانے میں دیر لگتی ہے خیال ِ جاں میں پھرے دربدر مسافر کو کبھی کبھی گھر کو آنے میں دیر لگتی ہے وہ ہنس کے غم ِ زندگی ہم کو اب سناتا ہے ہنر یہ دل کو سیکھانے میں دیر لگتی ہے ہے انتطار ِ سحر میں رات ِ زندگی ہر دم فلک پہ سورج کو آنے میں دیر لگتی ہے فراق ِ جاناں میں صدیوں یہ زندگی گزری کہ غم ِ محبت مٹانے میں دیر لگتی ہے وفا کا اعجاز خود کو مٹا کے نکھرے ہیں جہاں میں جیون سجانے میں دیر لگتی ہے 03336985564
1 year ago

★ⓜⓤⓓⓐⓢⓘ®★

★ⓜⓤⓓⓐⓢⓘ®★
★★♥♥★★♥♥★ ★mudasir saghri★ +92 333 69855 64 ★★★★★★★★★ punjab,attock,saghri✔ ⇨⇨⇨⇨⇨⇨⇨⇩⇩⇩
1 year ago

◆غزل◆

◆غزل◆
وہ شام بھی عجیب تھی یہ شام بھی عجیب ھے وہ کل بھی ساتھ ساتھ وہ آج بھی قریب ھے جہکی ھوئی نگاہ میں کہیں میرا خیال تھا دبی دبی ھنسی میں اک حسین سا گلال تھا میں سوچتا تھا میرا نام گنگنا رھی ھے وہ نجانے کیوں لگا مجھےکہ مسکرا رھی ھے وہ میرا خیال ھے اب بھی جہکی ھوئی نگاہ میں کھلی ھوئی ہنسی بھی ھے دبی ھوئی سی چاہ میں میں جانتا ھوں میرا نام گنگنا رھی ھے وہ نجانے کیوں لگا مجھے ساتھ آ رھی ھے وہ وہ شام بھی عجیب تھی یہ شام بھی عجیب ھے وہ کل بھی ساتھ ساتھ وہ آج بھی قریب ھے
1 year ago

♥♥mm♥♥

♥♥mm♥♥
آسماں کے رنگوں میں رنگ ہے شہابی سا دھیان میں ہے پھر چہرہ ایک ماہتابی سا منظروں نے کرنوں کا پیرہن جو پہنا ہے میں نے اس کا رکھا ہے نام آفتابی سا تم عجیب قا تل ہو، روح قتل کرتے ہو داغتے ہو پھر ما تھا چاند کی رکابی سا کون کہہ گیا ہے مو ت ٹوٹنے سے آتی ہے گل نے تو بکھر کے باغ کر دیا گلا بی سا پھر ہوا چلی شاید بھولے بسرے خوابوں کی دل میں اٹھ رہا ہے کچھ شوق اضطرابی سا تلخیوں نے پھر شا ید اک سوال دہرایا گھل رہا ہے ہو نٹوں میں ذائقہ جو ابی سا حرف پیار کے سارے آ گئے تھے آنکھوں میں جب لیا تھا ہاتھوں میں چہرہ وہ کتابی سا بوند بوند ہوتی ہے رنگ و نور کی برکھا جب بھی موسم آیا ہے نیناں میں شرابی سا
1 year ago

mudasir saghri

mudasir saghri
محبت سے حسیں تر اس جہاں میں اور کیا ہو گا جو ہو گا ، وہ محبت کے نہیں کچھ بھی سوا ہو گا جہاں والے محبت کو فسانہ ہی سمجھتے ہیں نہ جانے کب زمانے پر بھلا یہ راز وا ہو گا جو ہیں اہلِ جنوں واقف ہیں اسرارِ محبت سے بھلا اہلِ خرد پر راز کیوں کر یہ کھلا ہو گا نہ مرنے کا ہے غم مجھ کو ، نہ جینے کی تمنا ہے عجب اک بے قراری ہے نہ جانے آگے کیا ہو گا نہ چکر میں تو پڑ اس کے کہ یوں ہو گا تو کیا ہوگا ؟ ارے ہو گا وہی آخر ، جو منظورِ خدا ہوگا ہمیں تو ہے یقیں کامل ترے اقرارِ الفت کا کیا تھا تو نے جو وعدہ کبھی تو وہ وفا ہو گا یہی اعجازِ الفت ہے ذرا سن غور سے ذیشان یہ جذبہ ہے وہ جذبہ جو نہ ہرگز پھر فنا ہو گا